ہماری کہانی

ايک دن عبداللہ اور اس کے بيوي بچوں نے فيصلہ کيا

رحلہ (چھٹیوں) پر جانے کا اور دنيا کي رنگينياں ديکھنے کا ان کا سفر شروع ہوا ؟ چلتے چلتے راستے ميں ايک شخص کھڑا ملا عبداللہ نے پوچھا تم کون ہو ؟؟ اس نے کہا ميں مال ہوں

عبداللہ نے اپنے بيوي بچون سے پوچھا

کيا خيال ہے ؟ کيا ہم اسے ساتھ بيٹھا ديں ؟؟ سب نے کہا ضرور کيوں کے ہميں اس سفر ميں اس کي ضرورت پڑے گي اور اس کي موجودگي ميں ہم سب کچھ حاصل کرسکتے ہيں عبداللہ نے مال کو بھي اپنے ساتھ بيٹھا ليا اور آگے بڑھے جب تھوڑا  اور آ گے گيے تو ايک اور شخص کھڑا نظر ايا عبداللہ نے پھر پوچھا تم کون ہو ؟؟؟ اس نے جواب ديا ميں منصب و مقام ہوں

عبداللہ نے اپنے بيوي بچون سے پوچھا

کيا خيال ہے ؟ کيا ہم اسے ساتھ بيٹھا ديں ؟؟ سب نے کہا ضرور کيوں نہيں ہميں اس سفر ميں اس کي ضرورت پڑے گي اور  دنيا کي لذتوں کا حصول اس کي موجودگي ميں بہت آسان ہو جايے گا عبداللہ نے اسے بھي اپنے ساتھ بيٹھا ليا اور مزيد اگے بڑھا اس طرح اس سفر ميں بہت سے قسم کے لذات و شہوات سے ملاقات ہوئي عبداللہ سب کو ساتھ بيٹھاتا اگے بڑھتا رہا اگے بھڑتے بھڑتے ايک اور شخص سے ملاقات ہوئي عبداللہ نے پوچھا تو کون ہے ؟؟ اس نے جواب ديا ميں دين ہوں

عبداللہ نے اپنےبيوي بچوں سے پوچھا

کيا اسے بھي ساتھ بيٹھا ليں ؟ سب نے کہا ابھي نہيں يہ وقت دين کو ساتھ لے جانے کا نہيں ہے ابھي ہم دنيا کي سير کرنے  اور انجوئے کرنے جارہے ہيں اور دين ہم پر بلاوجہ ہزار پابندياں لگادے گا پردہ کرو حلال حرام ديکھو نمازوں کي پابندي کرو اور بھي بہت سي پابندياں لگا دے گا اور ہماري لذتوں ميں رکاوٹ بنے گا ہم انجوئے نہيں کر سکيں گے ليکن ايسا کرتے  ہيں کہ رحلہ سے واپسي پر ہم اسے ساتھ بيٹھا ليں گےاور اسطرح وہ دين کو پيچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہيں

چلتے چلتے

آگے
ایک چيک پوسٹآتا ہے  وہاں لکھا ہوتا ہےstopوہاں کھڑا شخص عبداللہ سے کہتا ہے کہ وہ گاڑي سے اترے عبداللہ گاڑي سے اترتا ہے تو وہ شخص اسے کہتا ہے تمھارا سفر کا وقت ختم ہو چکا مجھے تمھارے پاس دين کي تفتيش کرني ہے عبداللہ کہتا ہے  دين کو ميں کچھ ہی دوری پر چھوڑ ايا ہوں مجھے اجازت دو ميں ابھي جاکر اسے ساتھ لاتا ہو وہ شخص کہتا ہے اب واپسي ناممکن ہے تمھارا وقت ختمہو چکا اب تمہيں ميرے ساتھ چلنا ہوگا عبداللہ کہتا ہے مگر ميرے ساتھ مال منصب مقام اور بيوی بچے ہيں وہ شخص کہتا ہے اب تمہيں تمھارا مال منصب اور اولاد کوئی بھی اللہ کی پکڑ سے نہيں بچا سکتا

صرف دين تمھارے کام آسکتا تھا

جسے تم پيچھے چھوڑ آ ئے عبداللہ پوچھتا ہے تم ہو کون ؟؟ وہ کہتا ہے ميں موت ہوں جس سے تم مکمل غافل تھے اور عمل  کو بھولے رہے عبداللہ نے ڈرتي نظروں سے گاڑی کی طرف ديکھا اس کے بيوي بچے اس کو اکيلے چھوڑ کر مال و منصب کو لئے اپنے سفرکو مکمل کرنے کے ليے اگے بڑھ گئے اور کوئي ايک بھي عبداللہ کي مدد کے ليے اس کے ساتھ نہ اترا

آپ کے خالق کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ [المنافقون : 9]

مومنو! تمہارا مال اور اولاد تم کو اللہ کي ياد سے غافل نہ کردے اور جو ايسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہيں



اور جب کسي کي موت آجاتي ہے تو اللہ اس کو ہرگز مہلت نہيں ديتا
اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ

جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکا گا اور نہ بيٹے ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور تم کو قيامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلا ديا جائے گا

تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گيا اور بہشت ميں داخل کيا گيا وہ مراد کو پہنچ گيا اور دنيا کي زندگي تو دھوکے کا سامان ہے

قال تعالى :
کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بيٹے اور بھائي اور عورتيں اور خاندان کے آدمي اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کي راہ ميں جہاد کرنے سے تمہيں زيادہ عزيز ہوں
تو ٹھہرے رہو يہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (يعني عذاب) بھيجے
اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدايت نہيں ديا کرتا

2 thoughts on “ہماری کہانی

  1. very nice. This inspires us to remember the great reality, Death, all the time and to prepare for the forthcoming life, Aakhirah. I want to publish and distribute it among people. Jazak Allah

Comments are closed.