نکا ح ایک عبادت ہے

از: مفتی مقبول احمد صاحب مفتاحی
اللہ تعالیٰ نے انسان کی جسمانی وروحانی ہر ضرورت کی تکمیل فرمائی ہے یہ سیاروں کی گردش ، دن ورات کی تبدیلی ، بادلوں کی بارانی ،سورج کی روشنی ، چاند کی ٹھنڈک ، جنگلوں کی کثافت ، نیل گوں سمندروں کا پھیلائو ،زمین کا قرار ،چوپایوں کاوجود ، ہوائوں کی روانی ، پانی کی راحت غرض ہر ایک چیز اللہ وحدہ لا شریک نے صرف اور صرف انسانوں کی جسمانی راحت اور جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے پیدا کی ہیں ’’ان الدنیا خلقت لکم وانکم خلقتم للآخرۃ‘‘
اسی طرح انبیاء ورسل کی آمد، وحی خداوندی کا نزول ، پاکیزہ اخلاق کی تعلیم ، برائیوں کی خباثت ،اولیاء اللہ کاوجود ، ان کی شب بیداری ،عقل وفہم تدبر وذکا کی بخشش ، دینی مدارس ،دینی تحریکیں ، رجال اللہ وغیرہ یہ سب انسان کی روحانی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے ہیں ۔
اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ایک اہم تخلیق کاتذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ’’ ومن اٰیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا ‘‘ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت وحکمت کی چشم کشاایک نشانی ایک یہ بھی ہے کہ اس نے مردوں کی ذات سے ہی ان کے جوڑے پیداکئے صرف اس لئے کہ مرد ان سے روحانی ، جسمانی ،ذہنی ہرطرح کا سکون حاصل کرسکیں ۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم حکمت ہے کہ ا س نے خلقت ِ کون ومکاں اور خلقتِ انس وجان کے ساتھ انسانوں میںمرد وعورت کی تقسیم فرمائی اگر یہ تقسیم جنسِ انسانی سے نہ ہوتی جنات یا حیوانوں میں سے ہوتی تو ایک زبردست فساد اور نہ ختم ہو نیوالی خانہ جنگی پیدا ہو جاتی یہ اللہ کا کرم پر کرم ہے کہ اس حکیم نے حکمت سے بھر پور فیصلہ فرمایا ۔
اس جوڑے کی ضرورت سے از آدم تاایں دم کوئی بھی انسان نہ انکار کرسکا اور نہ کرسکتا ہے مذہب ِ اسلام نے اسکی جس انداز میں تشریح وتنفیذ کی ہے دنیا کا
کوئی مذہب اس کی برابری تو کیا قریب بھی نہ پہونچ سکا ،یہ اسلام ہی کا امتیازہے کہ اس نے ہر مرحلہ پر انسان کی بہترین رہنمائی کی ہے اس کے بر خلاف دیگر مذاہب میں کھلی چھوٹ اتنی دیدی گئی ہے کہ جنس ِ نازک کی رفعتیں خاک میں مل گئیں وہ صرف ہو س مٹانے کا آلہ بن کر رہ گئی اور بس !
انسان کی جہاں دیگر ضروریات ہیں وہیں ایک طبعی ضرورت فطری خواہش کی تکمیل بھی ہے ،یہ ا سلام کے نزدیک ممنوع بھی نہیں ہے اور نہ ہی مذموم ہے اسلام نے کسی بھی ضرورت سے چشم پوشی نہیںکی البتہ ضرورت کے پو راکرنے کے بہترین طریقے رائج کئے انسان کی اسی ضرورت کی تکمیل کیلئے ایک طریقہ سکھایا جسکو اسلام نکاح کا نام دیتا ہے ۔نکاح کا مقصد کیا ہے قرآنی آیت سے صاف واضح ہے’’ لتسکنوا الیھا ‘‘ روحانی تسکین، جسمانی راحت ، ذہنی سکون ، ملکی وقومی واخلاقی اقدار کی لاثانی حفاظت اس کے مقاصد ہیں ۔
ان مقاصد میں سے کسی ایک پر اکتفاء کر کے کسی اور طریقہ سے بھی وقتی طور پر مقصد کا حصول اگرچہ ممکن ہے مگر روحانی تسکین اس طریقہ کے بغیر ممکن نہیں اگر ایسا ممکن ہو تاتو انبیاء اس کی ضرور تعلیم دیتے مگر کوئی نبی بھی نکاح سے خالی ہاتھ نہیں رہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے نکاح کی ترغیب دی اور فقہاء کرام نے انہی ارشادات کو سامنے رکھ کر یہ مسئلہ بیان کیا کہ نکاح کرنا سنت ِ موکدہ ہے اگر مرد کو اپنے نفس پر قابو پانا مشکل ہو جائے تو پھر نکاح واجب اور ضروری ہوجاتا ہے ۔اگر کوئی نان ونفقہ ادا کرنے کا متحمل نہیں ہے تو اس کو مسلسل روزے رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے وجہ اس کی ظاہر ہیکہ نکاح آدمی کو بد نگاہی ، بد کاری اور بہت سے سی برائیوں سے روکتاہے اگر کوئی شخص نفس کے تقاضہ اور ہیجان کے بعد بھی اس طریقہ ٔ اسلام (نکاح)کو نہیں اپناتاعین ممکن ہے کہ وہ گناہ میں مبتلاء ہو جائے اگر اس میں مبتلاء نہ ہو ا تو مشاہد ہ ہے کہ بدنگاہی کے گناہ میںضرور ملوث ہو جاتا ہے (الا ماشاء اللہ )لہذایہ عمل نکاح چونکہ سنت ِنبوی بھی ہے او ربرائیوں سے روکنے والابھی ۔ اس لئے یہ عظیم الشان عبادت ہے ، خیال رہیکہ ہر عبادت کا مقصد خوشنودی ٔ رب اور تعمیل ِحکم ِربانی ہوتا ہے اسمیں کسی قسم کی کمی بیشی ثواب سے محرومی اور گناہ کا سبب ہوتی ہے ۔لیکن آج کل اس عبادت سے متعلق معاشرہ میں جو برائیاں اور رسومات عام ہو چکی ہیں اس کو دیکھ کر حسرت بھری صدا نکلتی ہے کہ
ائے بسرا پردۂ یثرب بخواب
کہ شد مشرق ومغرب خراب
مدینہ کی سرزمین پر آرام پانے والے !ذرا اٹھئے کہ مشرق ومغرب میں بگاڑ آچکاہے ہر دن ایک نئے رسم ورواج کی آمد سے حال یہ ہو گیا ہے کہ داعیان ِ حق بھی مارے مایوسی کہ خلوت نشینی کو پسند کرنے لگے ہیں گویا ان رسوم کا چلن اتناعام ہو چکاہے کہ اس کے جلد ختم ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اسلام کی تعلیم عام کرنا اور برائیوں کو روکنا ضروری ہے چنانچہ ہم کو چاہئے کہ ہر عبادت کو اسکے سلیقہ کے ساتھ ادا کیا جائے ۔اللہ کے نبی نے جہاں ہر عبادت کا سلیقہ سکھایا ہے وہیں اس عبادت کاطریقہ بھی سکھا یا ہے ۔
پہلا مرحلہ نکاح کے سلسلہ میں جو پیش آتا ہے وہ عمر کا ہے ،نکاح کے صحیح ہو نے کیلئے تو عمر کی کوئی قید نہیں ہے نابالغ کا نکاح اگر ولی کرادے تو وہ بھی منعقد ہوجائے گا لیکن معاشرہ میں عام طور پر بلوغ کے بعد نکاح کئے جاتے ہیں۔ عمر کے سلسلہ میں شریعت نے کہاں تک چھوٹ د ی ہے ؟ اس سلسلہ میں حاصل یہ ہے کہ جب نفس پر کنٹرول ختم ہو نے لگے تو نکاح کرلینا چاہیے کسی رسم ورواج پر عمل کرتے ہوئے بلوغ کے بعد کی عمر کو بھی کم سمجھنا شریعت کی نظر میں جہالت ہے۔
نکاح میں اگر والدین کی طرف سے ممانعت ہو تی ہے تو والدین خوب غور سے سن لیں کہ اولاد سے جو بھی گناہ نکاح نہ ہو نیکے سبب وجود میں آتا ہے تو والدین بھی اس گناہ میں شریک رہیں گے ۔بھوک اور پیاس جیسے ایک فطری ضرورت ہے نکاح بھی ایسے ہی ایک فطری ضرورت ہے، بڑے افسوس کی بات ہے کہ سب کچھ اسباب وسہولتیں میسر رکھتے ہوئے بھی والدین لڑکوں اور لڑکیوں کی صرف نام ونمود کیلئے نکاح نہیں کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ بقول اکبر الٰہ باد ی مرحوم کہ ’’ پہلے رخصتی پھر شادیاں ہو ں گی ‘‘ کے مناظر روزبروز سامنے آرہے ہیں ۔
دوسرا مرحلہ نکاح کے بارے میں لڑکی اور لڑکا تلاش کرناہوتا ہے اس سلسلہ میں جوکوتاہیاںہورہی ہیں وہی امت مسلمہ کی پریشانیوں اور مصیبتوں کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ عن ابی ہریرۃ  ؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا خاطب الیکم من ترضون دینہ وخلقہ فزوجوہ والاتفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض وفساد عریض (ترمذی ۱۰۰۴)
’’حضرت ابو ہریرۃ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تمہارے پاس کسی ایسے لڑکے یا لڑکی کا پیام آئے جس کے دین واخلاق سے تم مطمئن ہوتو اس سے اپنے لڑکے یا لڑکی کا نکاح کردو اور اگر نہیں کروگے تو خبردار ! دنیامیں ایک عالمگیر فساد رونما ہوگا ‘‘
اس حدیث کو پڑھنے کے بعد اہلِ ایما ن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ سرکاردوعالمﷺ کی زبان مبارک سے نکلی ہو ئی یہ وعید کلیجہ پھاڑ دیتی ہے ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اورارشادہے: عن ابی ھریرۃ  ؓ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال تنکح المرأۃ لاربع لمالھا ولحسبھا وجمالھا ولدینھا فاظفر بذات الدین تربت یداک (بخاری ۴۷۰۰)حضرت ابوہریرۃ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیںکہ عورت سے نکاح چاربنیادوں پر کیا جاتا ہے ایک مال ومنال کی بنیاد پر دوسرے حسب ونسب کی بنیاد پر تیسرے حسن وجمال کی بنیاد پر چوتھے دین کی بنیاد پر تم دین کو ترجیح دینا تم کو اسی میں کامیابی ملے گی ۔ان دو حدیثوں کو سامنے رکھ کر اپنے معاشرہ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ حضورﷺ نے جس امر کو ترجیح دی تھی آج وہی پس ِ پشت ڈال دیا گیا ہے ،کیا عوام کیا خواص سب اسی غفلت وگمراہی میں مبتلاء نظر آتے ہیں ،لڑکی کو پسند کرنے کے سلسلہ میں خواتین کا جو طرزِ عمل ہے اس سے مارے شرم کے نگاہیں جھک جاتی ہیں لڑکی کی جانچ معاذ اللہ اس حد کے قریب پہونچ گئی ہے جیسے یورپ کے وحشی مقابلۂ حسن میں عالمی حسینہ کا انتخاب ہورہاہے، لڑکا اگر کسی رشتہ سے راضی ہو بھی جائے تو خواتین کا طرز ِ عمل یہ ہوتا ہے کہ نکاح میں شرکت نہ کرنے اور کسی طریقہ کا ساتھ نہ دینے حد یہ ہے کہ اپنے گھر سے بائیکاٹ کرنے کی لڑکے کو دھمکی دی جاتی ہے اور لڑکی کو بیاہنے کے سلسلہ میں والدین لڑکا تلاش کرتے کرتے لڑکی کی عمر میں اضافہ کی پرواہ نہیں کرتے ،لڑکی حافظہ عالمہ ہے مگر اس کا شوہر داڑھی کٹا چاہیے ، دولت مند اور خوب کمانے والا چاہیے، خواہ وہ سودی کاروبار کرکے کمائے یا جھوٹ بولکر کمائے ۔
تیسرا مرحلہ رشتہ طے کر نے کے بعد کا ہوتا ہے اس مرحلہ پر آدمی ہر خواہش وتمنا کی تکمیل کے لئے پر عزم ہو جاتا ہے رشتہ طے کرتے وقت ہی سے رسومات وخرافات کا جو سلسلہ شروع ہوتا ہے تو پانچویں جمعہ گی تک ختم نہیں ہو تا ان رسومات کی برائی تو بالکل عیاں ہے البتہ بعض وہ کام جن کی قباحت دلوں سے ختم ہو تی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ تقریب ِ نکاح میں صرف اور صرف اپنی ناک اونچی رکھنے کیلئے یا پھر دنیاداروں کے طعن سے ڈر کر دولت جیسی اللہ کی دی ہوئی نعمت کا بے جا اسراف کیاجاتا ہے جواللہ تعالیٰ سے کھلی بغاوت کرنا ہے ۔اللہ کے نبی کا ارشاد ہے ’’اعظم النکاح برکۃ ایسرہ مؤنۃ‘‘سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو ۔کھانے میں حد سے زیادہ تنوعات ،اسٹیج وغیرہ کی آرائش کیلئے ہزاروں روپیہ کا اسراف ، فوٹوگرافی ، ویڈیو گرافی ، (خواہ موبائیل کیمروں کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو )موسیقی کی محفلیں ، تقریب ِ نکاح سے قبل مہندی کی رسم ، پاؤمیز کی رسم ، سانچق کی رسم ،رشتہ داروں کے لئے ’’نیوتے ‘‘ (کپڑوں)کا ایسا اہتمام کہ ا سکے لئے روپئے نہ بھی ہوں تو قرض سے پورا کرنا ، گھروالوں کی نا مناسب خواہشات کی تکمیل کا اہتمام ،اعلیٰ شادی خانوں کا انتخاب،تقریب میں غرباء کو نظر انداز کرکے امراء کو مدعو کر نا ،  ایجاب وقبول اور خطبہ کے مسنون عمل کو رسم کے طور پر اداکرنا ، استطاعت سے زیادہ مہر کی تعیین ،تقریب کو رات دیر گئے تک طول دینا وغیرہ یہ سب ایسے خرافات ہیں جن کی نبی علیہ السلام کی شریعت میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔
ذرا غور کریں کہ اگر کوئی نماز والی عبادت کی تکمیل کے لئے سونے کی انگھوٹی پہن کر زینت حاصل کرے ، کوئی عورت غیر ساتر فیشن ایبل کپڑے زیبِ تن کرے تو بتلائیے کہ ایسے شخص کو کونسامسئلہ سنا یا جائیگا ۔
اس سے یہی کہا جائیگا کہ یہ عبادت ہے عبادت میں خلاف ِ شریعت کوئی چیز داخل کردی جائے تو عبادت عبادت نہیں رہیگی بلکہ ضلالت ہو جائے گی ۔
محمد ِ عربیﷺ کے سچے امتیو! نکاح بھی ایسے ہی ایک عبادت ہے ،صحیح نیت سے اس کو ادا کرنے پر نیکیاں حاصل ہو تی ہیں لیکن اگر اس میں کوئی خلاف ِ شرع کام داخل کرلیتا ہے تووہ عبادت انجام نہیں دے رہا ہے بلکہ خواہش ِ نفس کی تکمیل کے لئے وہ سنت کا صرف سہا را لے رہا ہے تاکہ لڑکا لڑکی کاملاپ حلال ہوجائے اور بس ………حد درجہ افسوس کی بات ہے ’’النکاح من سنتی ‘‘ کا لیبل رقعہ پر لکھ کراور اس تقریب کو ’’عقد نکاح ‘‘ کانام دے کر گویارؤوف ورحیم ،گنہگاروں کی شفاعت کرنے والے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پہ گناہ کیا جارہا ہے ۔
ضرورت ہے کہ ان برائیوں کو ختم کرنے کے لئے کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ ہر فرد کے تعاون اور محنتیںتیز سے تیز ترکی جائیں ۔سوسائٹی کے بڑے افراد خواہ علماء میں سے ہوں یا امراء میں سے نکاح کی ایسی تقریبات انجام دیں کہ جس میں کوئی گناہ کا کام نہ ہو اور ایسی تقریبات کو اخبار وغیرہ کے ذریعہ اشاعت ِ اسلام کی نیت سے عام کیا جائے ۔آخری بات اور سب سے اہم بات یہ کہ مفکر ِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی الندوی ؒ نے برسہا برس کے تجربہ اور جہاں دیدگی کے بعد کہا تھا ’’اس ملک میں مسلمان بن کر رہنے کی آدھی ذمہ داری عورتوں پر ہے ‘‘ لہذا خواتین ِ امت ِ محمدیہ ﷺسے گذارش ہے کہ برائیوں کے ختم کرنے کے لئے اگر تم کمر کس لو تو پھر آنے والی نسل ہر حملہ ٔ شیطان سے محفوظ رہے گی ۔